صدر احمدی نژاد نے بوشہر ایٹمی پلانٹ کےبارے نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئےکہا کہ ایران کو مزید 20 ایٹمی پلانٹس کی ضرورت ہے اور ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بہترین اور جدید تقاضوں کے مطابق عمل کرے اور ایران اپنے عوام کے حقوق کے لئے ہر ضروری اقدام کرنے کے لئے تیار ہے صدر احمدی نژاد نے ایران اور روس کے درمیان تعاون کو مثبت قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور دنیا اب امریکہ اور اسرائیل کے گمراہ کن پروپیگنڈوں میں آنے والی نہیں ہے انھوں نے کہا کہ ہم امریکی سامراج کے خلاف ہیں ہم نے عراق پر امریکی حملے کی مخالفت کی جبکہ بعض عرب ممالک نے عراق پر امریکی حملے کی حمایت کی۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ اگر تمام مسلم ممالک متحد ہوجائیں تو امت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ایران علاقہ میں استحکام پیدا کرنے کا خواہاں ہے جبکہ غیر علاقائی طاقتیں اس علاقہ میں بد امنی ، بحران اور کشیدگی پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ایران کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں غیر علاقائی طاقتیں خطے میں کشیدگی پیدا کرنا چاہتی ہیں ہم نے عراق اور افغانستان پر امریکی جارحیت کی سب سے پہلے مذمت کی اور آج بھی ہمارا یہ مؤقف ہے کہ امریکی فوجیں عراق اور افغانستان سے نکل جائیں تو ان دونوں ممالک میں امن قائم ہوسکتاہے انھوں نے کہا کہ فلسطینی مسئلہ کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکہ ہے جو اسرائیل کے ہولناک اور بھیانک جرائم کی مکمل حمایت کرتا ہے صدر احمدی ںژاد نےکہا کہ امریکہ سے امن کی توقع رکھنا بالکل غلط ہے امریکہ دنیا میں اپنے اور اسرائیلی مفادات کے حق میں کام کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
/110